رپورٹ: دی نیوز 92 (عالمی ڈیسک)
اسلام آباد / تہران / تل ابیب – مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں نے خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
ایران بھارت بحری ٹکراؤ خلیج فارس سے موصول ہونے والی تشویشناک رپورٹس کے مطابق، ایران نے 38 بھارتی بحری جہازوں کا راستہ روک لیا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ بھارت نے خلیج میں ایک امریکی آبدوز کی معاونت کی جس کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کا ایک جہاز تباہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے مدد کے لیے امریکی بحریہ سے رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد بھارتی ملاحوں کی زندگی اور اربوں ڈالر کا سامان خطرے میں پڑ گیا ہے۔
پاکستانی قیادت کا اہم مشن اس سنگین صورتحال میں پاکستان نے اپنا سفارتی کردار تیز کر دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فورسز (COAS) جنرل سید عاصم منیر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا ایجنڈا علاقائی سیکیورٹی، ایران بھارت تناؤ اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی ہے۔
لبنان پر اسرائیلی حملے کا خطرہ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے لبنان کو تباہ کن جنگ کی وارننگ دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لبنان نے حزب اللہ کی کارروائیوں کو نہ روکا تو اسرائیلی فوج زمینی طور پر داخل ہو کر کنٹرول سنبھال لے گی۔ یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور بڑی زمینی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
