رپورٹ: دی نیوز 92 (عالمی ڈیسک)
اسلام آباد / دبئی – عالمی منظر نامے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، دفاعی ماہرین نے حکومتِ پاکستان کو ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے میں کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی مداخلت پاکستان کے لیے ایک “تاریخی حماقت” ثابت ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی راستے سے آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس خطے میں کسی بھی فریق کی حمایت میں مداخلت کرنا پاکستان کی اپنی معیشت اور سکیورٹی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کو اس وقت اپنی معاشی بحالی پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری “گریٹ گیم” کا حصہ بننا چاہیے۔ اگر پاکستان اس معاملے میں الجھتا ہے تو اس کے اثرات صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی براہِ راست اثر پڑے گا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور ماہرین کی آراء ہماری ویب سائٹ پر اپڈیٹ کر دی گئی ہیں۔
