رپورٹ: دی نیوز 92 (ویب ڈیسک)
واشنگٹن / اسلام آباد – عالمی سطح پر توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے درمیان، سابق امریکی صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے جس نے پوری دنیا کی نظریں ان پر جما دی ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ برسرِاقتدار آتے ہیں، یا موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات میں تبدیلی آتی ہے، تو تیل کی قیمتیں “یقینی طور پر” گر جائیں گی، اور یہ کمی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان کا سیاق و سباق
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ سے جب عالمی مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو ان کا جواب دوٹوک اور واضح تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق جنگ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے ہے۔
سابق امریکی صدر نے کہا: “تیل کی قیمتیں ضرور گر جائیں گی۔ یہ صرف جنگ کی صورت حال پر منحصر ہے اور توقع سے کہیں زیادہ کمی ممکن ہے۔”
ٹرمپ کا یہ اشارہ واضح طور پر روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی طرف تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، یا ان میں کمی آتی ہے، تو سپلائی چین بحال ہو جائے گی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں زمیں بوس ہو جائیں گی۔
کیا جنگ کے خاتمے سے قیمتیں کم ہوں گی؟ تجزیہ کاروں کی رائے
عالمی توانائی کے ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس-یوکرین جنگ نے پوری دنیا میں خام تیل کی سپلائی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روس دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس پر لگنے والی مغربی پابندیوں نے مارکیٹ میں تیل کی کمی پیدا کر دی ہے۔
جغرافیائی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
- سپلائی چین کی بحالی: اگر جنگ ختم ہوتی ہے اور روس پر عائد پابندیاں نرم کی جاتی ہیں، تو روسی تیل کی عالمی مارکیٹ میں واپسی ہوگی، جس سے قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا۔
- خوف اور غیر یقینی کی کمی: جنگ کے دوران مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال رہتی ہے، جس سے قیمتیں مصنوعی طور پر بھی بڑھتی ہیں۔ جنگ کے خاتمے سے یہ خوف ختم ہو جائے گا۔
- دیگر عوامل: ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ صرف جنگ کا خاتمہ ہی کافی نہیں ہے۔ اوپیک پلس (OPEC+) ممالک کے پیداواری فیصلے، امریکی پیداوار، اور چین کی معیشت میں تیل کی طلب بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ٹرمپ کی توانائی پالیسی اور اس کے اثرات
اپنے سابقہ دورِ صدارت میں، ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی “امریکی توانائی کی بالادستی” پر مبنی تھی۔ انہوں نے داخلی طور پر تیل اور گیس کی پیداوار کو فروغ دیا، جس سے امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ ٹرمپ کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو کم رکھنے میں مدد دی۔
موجودہ بیان ان کے اسی بیانیے کا تسلسل ہے کہ ان کا دوبارہ اقتدار میں آنا یا ان کی تجویز کردہ جنگ بندی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی پیٹرولیم مصنوعات سے پورا کرتا ہے، عالمی قیمتوں میں کسی بھی کمی کا سب سے بڑا مستفید ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرتی ہیں، تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں کمی ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو ملے گا اور مہنگائی کی لہر میں کمی آئے گی۔
خلاصہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایک طرف تو امید کی کرن ہے، اور دوسری طرف عالمی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا वाकई جنگ کے خاتمے سے تیل سستا ہو جائے گا؟ یا یہ صرف صدارتی مہم کا ایک حصہ ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس وقت عالمی مارکیٹ کی نظریں ان کی پیشگوئی پر جمی ہوئی ہیں۔
دی نیوز 92 عالمی توانائی مارکیٹ کی ہر اپڈیٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور آپ تک تازہ ترین معلومات پہنچاتا رہے گا۔

