تجزیہ: دی نیوز 92 (سیاسی و مذہبی ڈیسک)
اسلام آباد / نیویارک – پاکستان کی موجودہ حکومت نے اقوامِ متحدہ میں ایک ایسی قرارداد پیش کی ہے جس نے پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی عوام کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی غزہ اور خطے میں جاری بربریت پر خاموشی اختیار کرنے والے حکمرانوں نے ایران کو روکنے کے لیے کمر کس لی ہے۔
قرارداد کا متن اور پستی کا معیار پاکستانی مندوب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہ بنائے۔ ناقدین اسے “غلامانہ ذہنیت” کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں۔ جہاں دنیا اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو رہی ہے، وہاں پاکستانی حکمران امریکی مفادات کے پہرے دار بن کر سامنے آئے ہیں۔
اخلاقی اور سیاسی زوال عوامی حلقوں اور مذہبی دانشوروں کے مطابق، موجودہ دور کی “یزیدیت” کو خوش کرنے کے لیے یہ لوگ ہر فاسد قدم اٹھانے پر آمادہ ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف امتِ مسلمہ کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ کھلے عام ظلم و استکبار کی حمایت کے مترادف ہے۔
خدا کی لعنت ہو ان ظالموں پر سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر اس اقدام کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے “فرعونی اور یزیدی طاقتوں کی مددگار حکومت” قرار دے رہے ہیں جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ملّی غیرت کا سودا کر رہی ہے۔
