رپورٹ: دی نیوز 92 (سیاسی و سفارتی ڈیسک)
واشنگٹن / پشاور – امریکی محکمہ خارجہ نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل بنیادوں پر بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ قونصل خانہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاک افغان سرحد کے قریب امریکہ کی آنکھ اور کان سمجھا جاتا رہا ہے۔
بندش کی وجوہات اور مالی بچت امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے امریکی کانگریس کو ایک خط کے ذریعے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قونصل خانے کو برقرار رکھنے پر اٹھنے والے سالانہ 75 لاکھ ڈالر کے اخراجات بچائے جائیں گے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی اور اسلام آباد میں سفارت خانے کی موجودگی کے باعث پشاور میں مستقل مشن کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
سیاسی و جغرافیائی اہمیت پشاور قونصل خانہ نہ صرف ویزا سروسز بلکہ جنگِ افغانستان کے دوران انٹیلیجنس اور سٹریٹجک معلومات کے تبادلے کا اہم مرکز رہا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور اس فیصلے کو خطے سے امریکہ کی بتدریج واپسی اور اپنی ترجیحات کی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات پر اثرات محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قونصل خانے کی بندش سے پاکستان میں امریکی قومی مفادات کی تشہیر یا دوطرفہ تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ زمینی سطح پر رابطے کم ہونے سے خیبر پختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سفارت کاری میں خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
