رپورٹ: دی نیوز 92 (سیاسی ڈیسک)
کراچی – گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنے عہدے سے رخصتی کے موقع پر گورنر ہاؤس کراچی میں ایک جذباتی اور سیاسی طور پر اہم خطاب کیا ہے۔ انہوں نے جہاں ایک طرف نہال ہاشمی کو مبارکباد دی، وہیں دوسری طرف سیاسی مخالفین کو کڑے تیور بھی دکھائے۔
عوامی خدمات اور آئی ٹی انیشیٹو کامران ٹیسوری نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے کام کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایک خاموش تماشائی بنے رہیں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ان کے شروع کیے گئے عوامی منصوبے، خاص طور پر آئی ٹی کورسز اور لنگر خانہ، جاری رہنے چاہئیں۔
سیاسی پیغام اور وارننگ خطاب کے دوران کامران ٹیسوری کا لہجہ اس وقت جارحانہ ہو گیا جب انہوں نے کہا، “باقی سیاست کی بات رہی، تو ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، میں دھرتی کا دلیر بیٹا ہوں اور ڈرنے والا نہیں، ڈریں وہ لوگ جن کے راز میں جانتا ہوں۔” انہوں نے اشاروں میں واضح کیا کہ ان کی برطرفی کی وجہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا ہے۔
جذباتی الوداع تقریب کے اختتام پر جب کامران ٹیسوری نے “اللہ حافظ” کہا تو گورنر ہاؤس میں موجود خواتین، بچے اور بزرگ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور زار و قطار رونے لگے۔ انہوں نے معذرت کی کہ کل سے وہ گورنر ہاؤس میں افطار کی میزبانی نہیں کر سکیں گے، جس پر وہاں موجود لوگوں میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
