واشنگٹن / ماسکو / تہران – مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن خفیہ طور پر ایران کی عسکری اور تزویراتی مدد کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس کی یہ مداخلت خطے میں امریکی مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی سیکیورٹی کا اعلان
دوسری جانب، امریکی صدر نے سمندری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے پیشِ نظر بڑا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “اگر ضرورت پڑی تو امریکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تجارتی جہازوں کو مکمل فوجی سیکیورٹی فراہم کرے گا۔” یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو پہلے ہی شدید متاثر کر رکھا ہے۔
یورینیم آپریشنز پر یو-ٹرن؟
ایک حالیہ انٹرویو میں امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا فی الحال ایران سے یورینیم قبضے میں لینے کے لیے مزید کسی فوجی آپریشن کا ارادہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ براہِ راست ایٹمی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جنگ کے دائرہ کار کو پھیلنے سے روکا جا سکے، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
عالمی طاقتوں کا تصادم
ٹرمپ کے بیان نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر روس اور ایران کا تعاون ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو یوکرین جنگ کی طرح “پروکسی وار” سے نکال کر عالمی طاقتوں کے براہِ راست تصادم میں بدل سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور روسی چالوں کی پل پل کی اپڈیٹس کے لیے ‘دی نیوز 92’ کے ساتھ جڑے رہیں۔

