نئی دہلی/سری نگر – معروف کشمیری صحافی سرباز روح اللہ رضوی نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے “مقامِ شرم” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت ایک طرف ایران میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی جارحیت پر خاموش ہے، تو دوسری طرف اپنے معاشی مفاد کے لیے اسی ایران کے سامنے دستِ سوال دراز کر رہا ہے۔

جارحیت پر خاموشی اور تعزیتی پیغامات کا فقدان
روح اللہ رضوی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے قتل اور معصوم اسکول کی بچیوں کے قتل عام کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن مودی حکومت نے تعزیت کرنا تو دور، اسرائیل اور امریکہ کی اس ننگی جارحیت کی مذمت تک نہیں کی۔ انہوں نے اسے بھارت کی سفارتی ناکامی اور اخلاقی پستی سے تعبیر کیا ہے۔
بھارت میں ایندھن کا بحران اور ایران سے “بھیک”
صحافی نے بھارت کی داخلی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں ایندھن (Fuel) کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور ایل پی جی (LPG) کی قلت نے عام شہری کا جینا محال کر دیا ہے۔ ان حالات میں مودی حکومت ایران سے التجا کر رہی ہے کہ بھارتی تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔
“صورتحال بدل گئی ہے، جناب مودی”
رضوی نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ، “جناب مودی! اب صورتحال بدل گئی ہے۔” ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ اب ایران عالمی سیاست میں ایک اہم پوزیشن پر ہے اور بھارت کی روایتی سفارت کاری اب کام نہیں آئے گی۔ بھارت کو اگر اپنی معیشت بچانی ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔
بھارت اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس سفارتی کشیدگی اور معاشی اثرات پر مزید اپڈیٹس کے لیے ‘دی نیوز 92’ کے ساتھ جڑے رہیں۔

