رپورٹ: دی نیوز 92 (سیاسی ڈیسک)
سندھ کے گورنر ہاؤس میں ہونے والی حالیہ تبدیلی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی سمجھوتہ ہے جس کے تانے بانے اسلام آباد اور کراچی کے اقتدار کے ایوانوں سے ملتے ہیں۔
تبدیلی کی فوری وجہ: وہ ایک تقریب جس نے سب بدل دیا
ذرائع کے مطابق کامران ٹیسوری کی رخصتی کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب گورنر ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کراچی کے معاملات میں وفاق کی مداخلت اور شہر کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبات کیے گئے۔ اس پر سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے باقاعدہ قرارداد پاس کی اور آصف زرداری نے ن لیگ کو واضح کر دیا کہ ٹیسوری اب مزید قبول نہیں۔
نئے صوبے کا شوشہ اور قوم پرستوں کا ردِعمل
گل پلازہ آگ کے واقعے کے بعد گورنر ہاؤس میں ایم کیو ایم رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں انتظامی بنیادوں پر “نیا صوبہ” بنانے کی تجویز دی گئی۔ اس بات نے نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں کو بھی سیخ پا کر دیا۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے اس کے خلاف جناح گراؤنڈ میں احتجاج کا اعلان کر کے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے تحفظات
پی پی پی قیادت کا موقف تھا کہ گورنر ہاؤس کو ایم کیو ایم کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹیسوری کا “ایکٹویزم” (جیسے آئی ٹی کورسز اور عوامی رابطے) پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر کھٹک رہا تھا، جسے وہ اپنا مینڈیٹ سمجھتی ہے۔
ایم کیو ایم کا مستقبل: دھمکی یا مجبوری؟
ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اس وقت دو آرا پائی جاتی ہیں:
- سخت موقف: حکومت سے فوری علیحدگی اختیار کی جائے۔
- درمیانہ راستہ: صرف وزراء استعفے دیں لیکن حکومت کی حمایت جاری رکھیں۔
تاہم، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اب ماضی جیسی طاقتور پوزیشن میں نہیں ہے۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ مشاورت ہوئی تھی اور خالد مقبول صدیقی کو ملاقات کی دعوت بھی دی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایم کیو ایم احتجاج تو کرے گی لیکن حکومت گرانے کا رسک نہیں لے گی۔
