اسلام آباد / واشنگٹن / تہران – پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں وہ معرکہ سر کر لیا ہے جس کی توقع بڑے بڑے عالمی تجزیہ نگار بھی نہیں کر رہے تھے۔ رائٹرز اور عالمی میڈیا کے مطابق، رواں ہفتے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں، جس کی مکمل میزبانی اور ثالثی پاکستان کر رہا ہے۔
سفارتی رابطوں کی اندرونی کہانی
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اس بحران کو ٹالنے کے لیے “بیک چینل ڈپلومیسی” کا بھرپور استعمال کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اعتماد میں لیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقین اسلام آباد میں بیٹھ کر بات کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وانس، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف کریں گے۔
ایران کا “مائن” (Mine) پلان اور سخت انتباہ
مذاکرات کی میز سجنے کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کمزور نہیں کی۔ ایران کی دفاعی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جزائر کو خطرہ ہوا تو وہ خلیج فارس میں بارودی سرنگیں (Mines) بچھا دیں گے، جنہیں صاف کرنا ناممکن ہوگا اور عالمی تجارت مفلوج ہو جائے گی۔ محسن رضایی نے واضح کیا کہ اب بدلہ “آنکھ کے بدلے سر” کی صورت میں لیا جائے گا تاکہ دشمن کو ہمیشہ کے لیے معذور کر دیا جائے۔
مقبوضہ فلسطین میں کشیدگی
مذاکرات کی خبروں کے دوران ہی لبنان سے ہونے والے میزائل حملوں نے اسرائیلی بستی کریات شیمونہ میں تباہی مچا دی ہے، جہاں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہوئے تو پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
