کراچی – ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں ہونے والی ایک مبینہ بڑی ڈکیتی کا ڈراپ سین کر دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، واردات کا مدعی سعد حسن خود ہی اصل ملزم نکلا جس نے اپنے خالو (جو کہ اس کا سیٹھ بھی ہے) کو بھاری رقم واپس نہ کرنے کے لیے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تھا۔
واقعہ کا پس منظر
10 مارچ 2026 کو ملزم سعد حسن نے پولیس کو اطلاع دی کہ ستارہ پارک کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے اس سے 25 لاکھ روپے نقدی چھین لی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران کی نگرانی میں تحقیقات کا آغاز کیا۔
پولیس کی کارروائی اور انکشافات
دورانِ تحقیقات پولیس کو مدعی کے بیانات میں تضاد نظر آیا۔ جب جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو شواہد نے ڈکیتی کی تردید کی۔ پولیس کے سخت سوالات پر سعد حسن ٹوٹ گیا اور اعتراف کیا کہ اس نے اپنے خالو سے 25 لاکھ روپے ادھار لیے تھے جو اسے واپس کرنے تھے۔ رقم ادا کرنے کی استطاعت نہ ہونے پر اس نے اپنی ہی موٹر سائیکل گرا کر واردات کا تاثر دیا اور پولیس کو غلط اطلاع دی۔
قانونی کارروائی
ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق، پولیس کا وقت ضائع کرنے اور جھوٹی اطلاع دینے پر ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو متنبہ کیا کہ جرائم کی جھوٹی اطلاع دینا خود ایک سنگین جرم ہے جس کی کڑی سزا دی جائے گی۔
