واشنگٹن / تہران – مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں عالمی معیشت کے ڈانڈے براہِ راست جنگی جنون سے جڑ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (CENTCOM) نے ایران کے تزویراتی طور پر اہم ترین خارگ جزیرے (Kharg Island) پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔
فوجی اہداف کی تباہی اور ٹرمپ کا موقف
صدر ٹرمپ کے مطابق، ان حملوں کا مقصد خارگ جزیرے پر موجود ایرانی فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے اسے “مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی طاقتور ترین بمباری” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ایران کی جارحیت کا جواب ہے۔
تیل کی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کا الٹی میٹم
خارگ جزیرہ ایران کے لیے معاشی طور پر “شہ رگ” کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی مرکز سے ہوتی ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی تک تیل کی اصل تنصیبات (Oil Infrastructure) کو نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن انہوں نے ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روکنے یا عالمی تیل کی سپلائی میں مداخلت کی کوشش کی، تو امریکہ اگلی بار براہِ راست تیل کی تنصیبات کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گا۔
عالمی معیشت پر اثرات
اس بمباری کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی اب حقیقت میں بدل سکتی ہے، جو دنیا بھر میں توانائی کے ایک سنگین بحران کا باعث بنے گی۔
