تحریر: پاکستانی سوشل میڈیا ان دنوں جہاں جنگی خبروں سے بھرا ہوا ہے، وہیں کچھ صارفین نے ایک ایسی چیز نوٹ کی ہے جس نے سب کو ہنسنے اور سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ ہے “بجلی کی فراہمی”۔ ایران ہو یا اسرائیل، دونوں طرف سے بھاری بھرکم میزائل داغے جا رہے ہیں، لیکن وہاں کی ویڈیوز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کا الیکٹرک سسٹم کسی دوسری ہی دنیا کا ہے۔
ٹرانسفارمر کا صدمہ: ایک صارف نے بڑے ہی کاٹ دار انداز میں لکھا کہ “ہمارے ہاں ٹریکٹر ٹرالی کا ٹائر پھٹ جائے تو تین دن تک ہمارا ٹرانسفارمر سانس لینے کو تیار نہیں ہوتا”۔ یہ جملہ ہماری تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ معمولی آندھی، تھوڑی سی بارش یا کسی گاڑی کے کھمبے سے ٹکرانے کے بعد پورا علاقہ کئی دنوں تک اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی کا فرق: بظاہر یہ ایک مذاق ہے لیکن اس کے پیچھے ایک سائنسی حقیقت بھی ہے۔ ایران اور اسرائیل جیسے ممالک نے اپنے پاور گرڈز کو “ڈی سینٹرلائز” (Decentralized) کیا ہوا ہے اور وہاں زیادہ تر تاریں زیرِ زمین بچھائی گئی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا نظام پرانا اور بوسیدہ ہو چکا ہے، جہاں لٹکتی ہوئی تاریں اور کھلے ٹرانسفارمرز معمولی حادثے کو بھی بڑا بحران بنا دیتے ہیں۔
