اسلام آباد/سرحدی علاقہ – وفاقی دارالحکومت میں حالیہ ڈرون دراندازی کے بعد پاکستان نے اپنے دفاعی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے سرحد پار جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ غیر مصدقہ لیکن معتبر اطلاعات کے مطابق، پاک فضائیہ (PAF) کے طیاروں نے افغانستان کے صوبہ خوست کے علاقے مستربیل میں دہشت گرد عناصر کے اہم ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
آپریشن مستربیل کی تفصیلات
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے جہاں سے پاکستان میں ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ خوست کے مقامی ذرائع نے بھی زوردار دھماکوں اور فضائی سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ حملہ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن کے لیے ایک واضح اور سخت پیغام ہے۔
کابل اور قندھار میں بے چینی
اطلاعات کے مطابق خوست میں کارروائی کے بعد افغانستان کے دیگر بڑے شہروں، بشمول کابل اور قندھار میں بھی سیکیورٹی الرٹ ہائی کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کے دفاعی اداروں نے “کاؤنٹ ڈاؤن” شروع کر دیا ہے اور مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا سخت دفاعی موقف
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرخ لکیر (Red Line) کھینچ دی ہے۔ حالیہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ سرحد پر سیکیورٹی فورسز کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے اور کسی بھی جوابی اشتعال انگیزی کا سامنا کرنے کے لیے ایئر ڈیفنس سسٹم کو متحرک رکھا گیا ہے۔
خوست آپریشن کے نتائج اور مزید فضائی کارروائیوں کی تفصیلات کے لیے ‘دی نیوز 92’ کی ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔
