اسلام آباد/سرحدی علاقہ – وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی حالیہ فضائی دراندازی اور فیض آباد کے قریب ڈرونز مار گرائے جانے کے بعد، پاکستان نے دشمن کے خلاف باقاعدہ جوابی کارروائی (Retaliation) کا آغاز کر دیا ہے۔ عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں۔
آپریشن کا آغاز اور شاہینوں کی پرواز
ذرائع کے مطابق، پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر اور دیگر جنگی طیاروں نے مشکوک مقامات کی نگرانی اور ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائی ان عناصر کے خلاف کی جا رہی ہے جو سرحد پار سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور ڈرون حملوں جیسی بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
“آگ کے شعلوں کے لیے تیار ہو جاؤ”
دفاعی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ پیغامات میں دشمن کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری بیانات پر یقین کرے۔
سرحدی صورتحال اور الرٹ
پاک افغان سرحدی پٹی پر سیکیورٹی کو ‘ریڈ الرٹ’ پر رکھا گیا ہے اور کسی بھی غیر معمولی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا یہ فوری ردِعمل بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام ہے کہ پاکستان اپنی فضائی حدود اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
تازہ ترین فضائی کارروائیوں اور سرکاری اعلامیہ کے لیے ‘دی نیوز 92’ کی ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔
