رپورٹ: دی نیوز 92 (سفارتی و معاشی ڈیسک)
اسلام آباد / ریاض – پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان برسوں پر محیط برادرانہ تعلقات اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے عرب ممالک کے خلاف چلائی جانے والی مہم نے خلیجی قیادت کو سخت ناراض کر دیا ہے، جس کے اثرات اب زمینی حقائق کی صورت میں سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
ڈیپورٹیشن اور ویزا پابندیوں کے بادل ذرائع کے مطابق، سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک اس وقت پاکستانی محنت کشوں کو بڑی تعداد میں ڈیپورٹ کرنے اور نئے ویزوں کے اجراء پر پابندی لگانے جیسے سخت اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ عرب حکام نے حکومتِ پاکستان سے اس مہم پر سخت گلے شکوے کیے ہیں، جسے وہ اپنی ریاستوں کے داخلی استحکام کے خلاف ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
معاشی اثرات کا تخمینہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں 60 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا مستقبل داؤ پر لگنا ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ محنت کش سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ ممالک ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔
حکمتِ عملی اور معاملہ فہمی کی ضرورت ڈاکٹر صبوحی سید کے تجزیے کے مطابق، اس وقت محض جذبات کو ترجیح دینا خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستانیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حرمین شریفین کا تقدس اور خلیجی ممالک کا استحکام پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ حکومتِ پاکستان سفارتی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار عوامی رویوں میں تبدیلی پر ہے۔
