رپورٹ: دی نیوز 92 (دفاعی ڈیسک)
اسلام آباد / نئی دہلی – جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حالیہ بے بنیاد الزام تراشی کے بعد دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
الزام تراشی کا نیا سلسلہ بھارتی حکومت اور میڈیا نے ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر مداخلت کے الزامات لگانا شروع کر دیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت میں آنے والے انتخابات یا داخلی بحرانوں سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار ہمیشہ “پاکستان کارڈ” استعمال کرتی ہے، اور حالیہ بیانات اسی کڑی کا حصہ ہیں۔
سرحدوں پر صورتحال لائن آف کنٹرول (LoC) اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی افواج کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
عالمی برادری کی خاموشی اس سنگین صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔

