رپورٹ: دی نیوز 92 (بین الاقوامی ڈیسک)
واشنگٹن – امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایک بار پھر اپنے انتہا پسندانہ بیان سے عالمی سیاست میں آگ لگا دی ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے اسے دوسری عالمی جنگ کی تباہی سے تشبیہ دے دی۔
ملیامیٹ کرنے کی دھمکی لنڈسے گراہم نے کھلے الفاظ میں کہا کہ “جب بھی یہودیوں کو مٹانے کی کوشش ہوئی، ہم دشمن کو ملیامیٹ کر دیں گے”۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے برلن اور ٹوکیو کو مکمل طور پر تباہ کر کے جنگ جیتی تھی، آج غزہ میں بھی وہی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی ردِعمل کا خدشہ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں کر رہی ہے، ایک سینیئر امریکی سینیٹر کی جانب سے شہروں کو مٹانے کی بات کرنا جلتی پر تیل کا کام کرے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بیان کو “نسل کشی کی ترغیب” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
امریکہ کی پالیسی پر سوالات یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خود امریکہ کے اندر بھی اسرائیل کے لیے فوجی امداد پر بحث جاری ہے۔ لنڈسے گراہم کے اس بیان نے بائیڈن انتظامیہ کے لیے بھی سفارتی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

