رپورٹ: دی نیوز 92 (مذہبی ڈیسک)
اسلام آباد – رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی تمام تر رحمتوں کے ساتھ جاری ہے، اور آج مغرب کے بعد سے شروع ہونے والی 23ویں طاق رات ایک خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس سال 23ویں شب، جمعہ کی مبارک رات کے ساتھ آ ملی ہے، جس نے فرزندانِ اسلام کے شوقِ عبادت کو مزید جلا بخش دی ہے۔
اکابرینِ امت کے ارشادات اسلامی تاریخ کے عظیم محدثین اور فقہاء نے اس ملاپ کو بہت اہمیت دی ہے۔ علامہ ابن رجب نے اپنی مشہور کتاب ‘لطائف المعارف’ میں ابن ہبیرہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب طاق رات اور جمعہ کی رات ایک ساتھ ہوں، تو یہ شبِ قدر ہونے کی بڑی علامت ہے۔ اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ ایسی رات میں شبِ قدر ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
عبادت کی تلقین علماِ کرام کا کہنا ہے کہ اگرچہ شبِ قدر کو پوشیدہ رکھا گیا ہے تاکہ مسلمان آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں عبادت کریں، لیکن جمعہ اور طاق رات کا یہ حسین امتزاج اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ مساجد میں اعتکاف بیٹھے افراد اور عام شہری بھی اس رات بھرپور عبادت، تلاوتِ قرآن اور نوافل کا اہتمام کر رہے ہیں۔
دی نیوز 92 کی جانب سے تمام قارئین کو اس مبارک رات کی سعادتیں مبارک ہوں۔ اللہ پاک ہم سب کی دعائیں قبول فرمائے۔

