رپورٹ: دی نیوز 92 (عالمی ڈیسک)
تہران / واشنگٹن – عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی اعلان میں ایرانی فوج کے ترجمان نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔
بڑی دھمکی ایرانی فوج کے ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی انتہا پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی یا خطے میں حالات خراب ہوئے تو وہ آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی گزرگاہوں کو بند کر سکتے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی مکمل طور پر رک جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں قیمت 200 ڈالر تک جانا ناگزیر ہوگا۔
عالمی معیشت پر اثرات اس دھمکی کے بعد عالمی معیشت دانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگر تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو یہ عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دے گی۔ کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں تباہ ہو سکتی ہیں اور عالمی سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔
پاکستان پر اثرات پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس دھمکی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
